نئی دہلی،27/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جنوبی ہندوستانی ریاستوں کے لوگوں کو اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو ضرورت پڑنے پرسپریم کورٹ میں چیلنج دینے کے وقت ہونے والی مشکلات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے راجیہ سبھا میں بدھ کو کئی ارکان نے چنئی میں عدالت عظمی کی بنچ قائم کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ وقفہ صفر میں ایم ڈی ایم رکن وائیکو نے چنئی میں سپریم کورٹ کی بنچ قائم کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہونے پر خود سپریم کورٹ کا ہی بوجھ کم ہوگا۔فی الحال سپریم کورٹ میں 54,013 معاملے زیر التوا ہیں وائیکو نے کہا کہ سپریم کورٹ قومی راجدھانی دہلی میں ہے اور جنوبی ہندوستانی ریاستوں کے لوگوں کو اعلی عدالتوں کے فیصلوں کو ضرورت کے مطابق سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لئے دہلی آنا پڑتا ہے۔یہاں آنے اور ٹھہرنے پر ہونے والا خرچ اور زبان کی دقت اور دیگر مسائل ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ ان مسائل سے راحت مل سکتی ہے اگر چنئی میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ قائم کر دی جائے ڈی ایم کے کے پی ولسن نے کہا کہ پہلے بھی مستقل پارلیمانی کمیٹیاں سپریم کورٹ کے علاقائی بنچ قائم کئے جانے کی سفارش کر چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہلی آنے اور یہاں ٹھہرنے پر ہونے والا خرچ اور زبان کی دقت اور دیگر مسائل کی وجہ سے وہی لوگ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں جو ان کا سامنا کر سکتے ہیں۔ مختلف جماعتوں کے ارکان نے اس مسئلے سے اتفاق کیا۔ان میں سے زیادہ تر رکن جنوبی ہندوستانی ریاستوں کے تھے۔وقفہ صفر میں بی جے پی کے ڈی پی وتس نے مطالبہ کیا رہنما علاقائی ترقی فنڈ (ایم پی لیڈ) کے تحت پانچ کروڑ روپے کی قسط سالانہ جاری کی جانی چاہئے اور اس کے لئے فنڈ کی افادیت سے متعلق سرٹیفکیٹ کی لازمیت نہیں ہونی چاہیے وتس نے کہا کہ فنڈ جاری کرنے میں دو سے تین سال کا وقت لگ جاتا ہے کیونکہ پہلے تخمینہ تیار کیا جاتا ہے، پھر اس کی منظوری دی جاتی ہے اور اس کے بعد کام مکمل ہوتا ہے۔اس کے بعد رقم جاری کی جاتی ہے۔اس پر چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے جاننا چاہا کہ اگر فنڈز رقم جاری کر دی جائے اور اس کا استعمال نہ ہو پائے اور وہ رقم بینک میں پڑی رہے تو اس کے لئے ذمہ دار کون ہوگا۔